ہجر کا شکرانہ

  بہت سال پہلے میں نے انگریزی کے ایک معروف پروفیسر سے پوچھا، کیا انگریزی شعری رسمیات میں عاشق و معشوق کی آفاقی خصوصیات کا نظام موجود ہے، چاہے ڈھیلا ڈھالا سہی؟ پہلے پہل، وہ میرا سوال نہیں سمجھ پائے، جب میں نے اپنے نکتے کی وضاحت کی، تو اخلاص سے ملی جلی حیرت سے …

میر کی ہم دِلی

 

بہت سال پہلے میں نے انگریزی کے ایک معروف پروفیسر سے پوچھا، کیا انگریزی شعری رسمیات میں عاشق و معشوق کی آفاقی خصوصیات کا نظام موجود ہے، چاہے ڈھیلا ڈھالا سہی؟ پہلے پہل، وہ میرا سوال نہیں سمجھ پائے، جب میں نے اپنے نکتے کی وضاحت کی، تو اخلاص سے ملی جلی حیرت سے کہنے لگے، ہمارے یہاں ایسا کچھ نہیں، نہ ڈھیلا نہ ڈھالا، آخر یہ کیوں کر ممکن ہے؟ ظاہر ہے اردو فارسی شعر سے ان کی شناسائی مطلق نہ تھی۔ اردو شاعری میں محب و محبوب کی لمبی چوڑی صفات سن کر ان کے چہرے پر رشک کا چھینٹا پڑ گیا۔

ہمارے ہاں کلاسیکی شعری صفات کو ٹائپ سمجھ کر، بے کار گردانا جاتا ہے۔ حالاں کہ معاصر شعری دنیا میں خصائص کی یہ فہرست قائم بالذات باب کے طور پر پیش کرنے کے قابل ہے۔ مثال کے طور پر ہم دلی یا Empathy جدید دنیا کا اہم موضوع ہے۔ آج کل امریکی تنقید میں جتنی نئی باتیں ہو رہی ہیں (مثال کے طور پر فیلسکی اور ہِرش)، ان میں ہم دلی کا بہت تذکرہ ہے۔ پارسال (2025ء) جین آسٹن کی سالانہ تقریبات میں آسٹن کے فکشن سے جس قدر جدید تصورات منسلک کیے گئے، ان میں خلقی آزادی اور ہم دلی کے تصورات اہم تھے۔ گارڈین اور نیو یارک ٹائمز کے لکھنے والوں نے درجنوں صفحات کا شکم بھر ڈالا۔ معاملہ یہ ہے،کلاسیکی اردو عاشق سے زیادہ ہم دلانہ کردار شاید ہی کہیں مل سکے۔ یہ بات مزید دلچسپ ہے کہ عاشق کی ہم دلی، دوسرے کرداروں اور انسانوں کے ساتھ ساتھ اپنی ذات سے متعلق بھی فعال نظر آتی ہے۔ ظاہر ہے، فکشن کے لمبے چوڑے بیانیے کے برعکس غزل کے دو مختصر مصرعوں میں سوا سو رنگ اور سوانگ بھرنا شیکسپیئر کے ڈرامے کو چنوتی دینا ہے۔ فیلسکی جسے جدید ہم دلی (Latter day Empathy) کہتا ہے، اسے برس دیدہ میر کے کلام میں دیکھیے:

دم بخود رہتا ہوں اکثر سر رکھے زانو پہ میرؔ

حال کہہ کر کیا کروں آزردہ اور احباب کو

(دیوان ششم)

اس شعر کو دردمندی کا کامل نمونہ سمجھنا چاہیے۔ لیکن میری دانست میں اس نوع کے شعروں کے علاوہ وہ اشعار زیادہ اہم ہیں، جن میں شاعر یا متکلم، محبوب کی جفا کو زندگی کا حاصل سمجھ کر اس کا شکر بجا لاتا ہے:

شکر کر داغ دل کا اے غافل

کس کو دیتے ہیں دیدۂ بیدار

(میر، دیوان اول)

درد کو خوشی کے طور پر منانا (To celebrate) فارسی کی صوفیانہ شاعری (اور کسی قدر ابتدائی ہندی شاعری میں) عام ہے۔ اردو شاعروں کا کارنامہ یہ ہے، انھوں نے صوفیوں کی روایت کو عام زندگی کا آمیختہ بنا ڈالا۔ اس آمیختہ میں اصل اہمیت خاکی عنصر کی ہے۔ میر کا شعر ملاحظہ ہو :

شکر اس کی جفا کا ہو نہ سکا

دل سے اپنے ہمیں گلہ ہے یہ

(دیوان اول)

غور کریں، جفا کا شکر ادا کرنے والی تہذیب کیسی نفس مطمئنہ کی حامل ہو گی! ناسازی و ناہمواری پر راضی بہ رضا رہنے کا سہل ممتنع اظہار اس سے بہتر کیا ہو گا۔ ایسی باتوں کا جواب خود میر کے علاوہ دوسرے کلاسیکی شعراء کے کلام میں ملنا بھی شاذ ہے۔ میر کے لیے یہ وہی مظہر ہے، جسے میلارمے نے Se faire tout seul (از خود زایدہ) کہا تھا۔ محبوب سے کی جانے والی وفا میں محب کے وجود کا ہر حصہ ایک علیحدہ، Espontáneo کے طور پر تفاعل کرتا ہے۔ یہ مبارزت بعد میں غالب کے کلام میں رشک کے پورے تصور پر منتج ہوئی۔ البتہ غالب کا تصورِ رشک، ہمیشہ شدت کے ساتھ اپنی گرم بیانی پر زور دیتا ہے۔ میر کے کلام میں اعضاء و احوال کی باہمی مبارزت (Mutual Challenge) تمام تر قوت کے باوجود، بیان کے پیرائے میں ٹھنڈی اور اطمینان آمیز حالت میں سامنے آتی ہے۔ ظاہر ہے یہ کھلے کھیلے اور ہر طرح کی صورت حال کو برتے ہوئے عامل کا بیّن ثبوت ہے۔ دیوان اول ہی کا ایک اور باکمال شعر دیکھیے:

اس کے ایفائے عہد تک نہ جیے

عمر نے ہم سے بے وفائی کی

یہاں بھی چنوتی کے طور پر ملبہ، عمر پر ڈالا ہے، خود پر نہیں، بعینہٖ پہلے شعر میں ناشکری کا گلہ دل سے ہے، اپنے آپ سے نہیں یعنی عاشق اپنی ذات میں (ذات سے زیادہ جامع لفظ نہ ہونے پر افسردہ ہوں) اعضا و جوارح کے حاصلِ جمع سے کچھ زیادہ ہے۔ یہ ایسا نتیجہ ہے، جس کا سہرا بہت بعد میں معروف ماہر و موسس لسانیات سوشیئر کے سر باندھا گیا (جو درست ہے) لیکن اس کا احساس ہمارے شعراء کے ہاں صدیوں پہلے سے موجود تھا۔ شاید میر کے ہاں یہ تصور، ایک معروف حدیث کی معرفت آیا ہو۔ حدیث کے الفاظ ہیں : قیامت کے دن خدا انسان سے اس کے اسلام کی بابت پوچھے گا، بندہ جواب میں اپنے اعمال پیش کرے گا۔ خدا اعمال کو پس انداز کر کے دوبارا اسلام پیش کرنے کا سوال کرے گا، بندہ بار دگر اعمال سامنے لائے گا۔ کہا جائے گا، اعمال اور شے ہیں اسلام اور۔ گویا اسلام، اعمال کی ریاضیاتی جمع سے بڑھ کر ہے۔ کلاسیکی شعراء کے ہاں کام کی بات یہ تھی کہ وہ کسی بھی تہذیب سے مسکت و اصولی نکات کو مستعار لینا حرج نہیں سمجھتے تھے۔ آج کل کے ادبی معاشروں میں مذہب سے لیے جانے والے ضوابط کو شجر ممنوعہ خیال کیا جاتا ہے۔ کلاسیکی ادب کا احوال یہ ہے کہ غالب جیسا شاعر اپنے کلام کی معروف (اور اصلاً غلط) دہریت کے باوجود عام زندگی میں وظیفے پڑھتا تھا اور خط میں اس کا بہ سہولت تذکرہ بھی کرتا تھا۔

جملہ ء معترضہ کو چھوڑتے ہوئے، یہ سمجھنا اہم ہے، کلاسیکی شعراء سے جدید تصورات کا استخراج بڑے بڑے مغربی شاعروں کو ٹکر دینے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ میر کی اس خاصیت میں، ان کے معاصرین میں سے سب سے زیادہ شریک مصحفی رہے۔ کیسی افسوسناک بات ہے، انھیں دو چار شعروں کا شاعر کہہ کر نبٹا دیا جاتا ہے۔ میں بات کو سمیٹتے ہوئے حافظے کی بنیاد پر مصحفی کے دو شعر لکھتا ہوں۔ شرح کرنے کی ہمت نہیں۔ ایجاز یہ ہے اگر درج ذیل اشعار، ڈھنگ سے مغربی زبان یا محض انگریزی ہی میں ترجمہ کیے جاتے تو عالمی ادبی حلقوں میں ہماری صورت حال مختلف ہوتی۔

میں تاب نہ لا سکا وہ مجھ سے

آنکھیں تو بہت ملا رہا تھا

(دیوان اول)

میرے نامے سے خوں ٹپکتا تھا

دیکھ کر اس نے کہا کہا کو گا

(دیوان سوم)

ڈاکٹر ارسلان راٹھور

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button